ٹیسٹ کر کٹرمحمد یوسف کا قومی انڈر 19 ٹیم کا کوچ بننے کی خواہش کا اظہار | Daily Qom
تازہ تر ین

ٹیسٹ کر کٹرمحمد یوسف کا قومی انڈر 19 ٹیم کا کوچ بننے کی خواہش کا اظہار

لاہور(ویب ڈیسک)ماضی کے عظیم بیٹسمین اور سابق کرکٹ کپتان محمد یوسف نے انڈر19ایشیا کپ فائنل میں افغانستان کے ہاتھوں پاکستان کی ذلت آمیز شکست کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے پی سی بی کو جونیئر ٹیم کا کوچ بننے کی خواہش کا اظہا کر دیا۔سابق ٹیسٹ کر کٹر محمد یوسف کا کہنا تھا کہ اگر کرکٹ کی بہتری کے لیے اچھے لوگوں کو
آگے نہیں لایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کرکٹ کا نام صرف کتابوں میں رہ جائے گا۔اپنے ایک انٹرویو میںسابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے کہا کہ اگر ہم ایشیائی سطح پر افغانستان سے ہارتے رہے اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہیں کیے گئے تو پھر عالمی سطح پر تو ٹیم کا اللہ ہی حافظ ہے۔محمد یوسف نے پیشکش کی کہ اگر بورڈ مجھے اس قابل سمجھتا ہے تو میں پاکستان انڈر 19 ٹیم کی کوچنگ کرنے کو تیار ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ جب راہول ڈریوڈ بھارت کی جونیئر ٹیم سنبھال سکتا ہے تو مجھے بھی کوئی عار نہیں ہے، میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں جونیئر ٹیم کا کوچ بننے کے لیے تیار ہوں۔محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان میں ثقلین مشتاق جیسا عظیم کھلاڑی اپنی خدمات پیش کررہا ہے، لیکن انہیں نہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے لفٹ کرائی اور نہ پاکستان سپر لیگ کی چھ فرنچائزوں نے موقع دیا، دنیا بھر میں آف اسپن کے فن کو زندہ کرنے والے ثقلین مشتاق آج انگلش ٹیم کے لیے کام کررہے ہیں لیکن پاکستان کرکٹ میں انہیں کوئی موقع نہیں دے رہا۔انہوں نے کہا کہ انڈر 19 ٹیم پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہے، اگر نوجوان کرکٹرز میں صلاحیت نہیں ہے تو پھر آگے چل کر کرکٹ کو نقصان ہی ہوگا، جونیئر ٹیم سے ہی اچھے کھلاڑی اوپر آتے ہیں۔محمد یوسف نے کہا کہ افغانستان کے ہاتھوں مسلسل دوسری شکست پاکستانی جونیئر کرکٹ ٹیم کے لیے بڑا دھچکہ ہے اور اس مایوس کن شکست سے غلطیوں کی اصلاح کرنا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ جونیئر ورلڈ کپ چند ماہ بعد نیوزی لینڈ میں ہورہا ہے، جبکہ ڈیڑھ سال بعد انگلینڈ میں سنیئر ورلڈ کپ ہونا ہے۔محمد یوسف نے کہا کہ کوئی بھی کوچ کھلاڑی کو غلط بات نہیں بتاتا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کھلاڑی سیکھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں، لہذا ایسے کوچ کو اہمیت دی جائے جو اپنی بات پر کھلاڑیوں کو قائل کرے اور کھلاڑی اس کے مشوروں پر عمل کریں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
صحت اورتندرستی
No News Found.
عجیب و غریب
No News Found.